الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا أَوْ شَرَطَ عَلَيْهِ خِدمَتَهُ وَحُكْم مَنْ مَلِكَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ أَوْ أَعْتَقَ مَالَمْ يَمْلِك باب: غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا¤مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 5263
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … آزاد کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کی آزاد ی کا سبب بنے، کیونکہ جب ایسے باپ کو خریدا جائے گا تو خود بخود آزاد ہو جائے گا۔