الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا أَوْ شَرَطَ عَلَيْهِ خِدمَتَهُ وَحُكْم مَنْ مَلِكَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ أَوْ أَعْتَقَ مَالَمْ يَمْلِك باب: غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا¤مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 5262
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ فَهُوَ حُرٌّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مَحرم رشتہ دار کا مالک بنا، وہ آزاد ہو جائے گا۔
عَنْهُ بِالسَّنَدِ الْأَوَّلِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ فَهُوَ عَتِيقٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ پہلی سند کے ساتھ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی محرم رشتہ دار کا مالک بنے گا تو ایسا غلام آزاد ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی آدمی مَحرم رشتہ دار کو بطورِ غلام خرید لیتا ہے تو وہ ایسا رشتہ دار خود بخود آزاد ہو جائے گا۔