الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجُوزُ الِاسْتِجْمَارُ بِهِ وَمَا لَا يَجُوزُ باب: ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 526
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ: ((الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ)) قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ: ((إِنَّهَا رِكْسٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے اور فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر تلاش کر کے لاؤ۔“ پس میں دو پتھر اور ایک لید لے کر آیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا: ”یہ گندی ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پتھروں کے ساتھ استنجا کیا تھا، کیونکہ مسند احمد کی ایک روایت میں یہ زیادتی ہے: ((اِئْتِنِیْ بِحَجَرٍ۔)) … ایک پتھر اور لے آ۔