الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ وَعِيدِ الْعَبْدِ إِذَا نَقَصَ مِن صديهِ أو توَلَّى غَيْرَ مَوَالِيْهِ أَوْ سَرِقَ أَوْ أَبَقَ باب: اس غلام کی وعید کا بیان جو اپنی نماز میں کمی کرتا ہے، یا غیر مالک کو مالک ظاہر کرتا ہے، یا چوری کرتا ہے، یا بھاگ جاتا ہے
حدیث نمبر: 5259
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا سَرَقَ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ وَالنَّشُّ نِصْفُ أُوقِيَّةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے اور ایک روایت میں ہے: جب چوری کرے تو اس کو بیچ ڈال، اگرچہ نصف اوقیہ کے عوض بیچنا پڑے۔ النَّشّ سے مراد نصف اوقیہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہو سکتا ہے کہ ایسے غلام کو چوری کی عادت پڑ جائے، لہٰذا اس کا گھر میں رہنا ٹھیک نہیں، یہ مسئلہ بار بار پیدا ہو سکتا ہے، بیچ دینا ہی بہترہے، ممکن ہے کہ دوسرے گھر کے حالات اس کی یہ عادت چھڑا دیں، لیکن بیچتے وقت اس کا یہ عیب خریدنے والے کو صاف بتایا جائے تاکہ وہ دھوکے میں نہ رہے، ورنہ گناہ ہو گا، نیز سودا واپس بھی ہو سکتاہے۔