حدیث نمبر: 5255
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ ذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لَيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ فَإِنْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قِيلَ لَهُ نَقَصْتَ مِنْهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي فَيَقُولُ قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ فَهَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِكَ مِنْ عَمَلِكَ أَوْ عَمَلِهِ قَالَ فَيَتَّخِذُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک غلام کی نماز کا محاسبہ ہو گا ، اگر اس نے کمی کی ہو گی تو اس سے کہا جائے گا: تو نے تو کمی کی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! تو نے مجھ پر ایسا مالک مسلط کر دیا تھا، جو مجھے نماز سے مصروف رکھتا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھے دیکھا تھا کہ تو اپنی ذات کے لیے اس کا مال چوری کر لیتا تھا، پس ایسے کیوں نہ ہوا کہ تو نے اپنے عمل کے لیے یا اس کے کام میں سے چوری کر کے (نماز ادا کی ہوتی)، پس اللہ تعالیٰ اس پر دلیل قائم کر دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ غلام کو کھانے پینے اور سونے کے لیے جو وقت دیا جاتا تھا، وہ اس میں نماز ادا کر لیتا، یا جب وہ اپنے آقا کی خدمت سے متعلقہ ڈیوٹی دے رہا ہوتا تو بیچ میں نماز کے لیے اس طرح وقت نکال لیتا کہ آقا کو پتہ نہ چلتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5255
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، المبارك بن فضالة مشھور بالتدليس، ولم يصرح ھنا بسماعه من حسن، والحسن لم يسمع ابا ھريرة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8335»