الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ وَعِيدِ الْعَبْدِ إِذَا نَقَصَ مِن صديهِ أو توَلَّى غَيْرَ مَوَالِيْهِ أَوْ سَرِقَ أَوْ أَبَقَ باب: اس غلام کی وعید کا بیان جو اپنی نماز میں کمی کرتا ہے، یا غیر مالک کو مالک ظاہر کرتا ہے، یا چوری کرتا ہے، یا بھاگ جاتا ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ ذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لَيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ فَإِنْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قِيلَ لَهُ نَقَصْتَ مِنْهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي فَيَقُولُ قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ فَهَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِكَ مِنْ عَمَلِكَ أَوْ عَمَلِهِ قَالَ فَيَتَّخِذُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک غلام کی نماز کا محاسبہ ہو گا ، اگر اس نے کمی کی ہو گی تو اس سے کہا جائے گا: تو نے تو کمی کی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! تو نے مجھ پر ایسا مالک مسلط کر دیا تھا، جو مجھے نماز سے مصروف رکھتا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھے دیکھا تھا کہ تو اپنی ذات کے لیے اس کا مال چوری کر لیتا تھا، پس ایسے کیوں نہ ہوا کہ تو نے اپنے عمل کے لیے یا اس کے کام میں سے چوری کر کے (نماز ادا کی ہوتی)، پس اللہ تعالیٰ اس پر دلیل قائم کر دے گا۔