الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي النَّهْيِ عَنِ الِاسْتِجْمَارِ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ باب: تین پتھروں سے کم پر اکتفا کرنے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 525
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوهَا وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں اور تمہیں اسی طرح تعلیم دیتا ہوں، پس جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے جائے تو نہ وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ کرے اور کوئی آدمی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔“
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں واضح طور پر تین پتھروں سے کم پر اکتفا کرنے سے منع کیا گیا ہے، اگر اس سے زیادہ پتھروں کی ضرورت پڑے تو بھی طاق کا خیال رکھا جائے۔ امام احمد اور امام شافعی نے کم از کم تین پتھروں کو واجب قرار دیا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک نے اس لحاظ سے عدد کا کوئی اعتبار نہیں کیا، البتہ طاق تعداد کا خیال رکھا ہے، وہ ایک ہو یا تین، لیکن ان احادیث ِ مبارکہ سے ان کی رائے کی تائید نہیں ہوتی۔