الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ عِقَابِ مَنْ مَثَلَ بِعَبْدِهِ أَوْ رَمَاءَ بِالزَّنَا وهو برىء باب: جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، یا اس پر زنا کی تہمت لگائی، جبکہ وہ بری ہو، اس کی سزا کا بیان
حدیث نمبر: 5246
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خَادِمًا يُسِيءُ وَيَظْلِمُ أَفَأَضْرِبُهُ قَالَ تَعْفُو عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ایک غلام ہے، وہ نازیبا اور غلط حرکتیں کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے، کیا میں اس کو مار سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزانہ اس کو ستر بار معاف کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … غلام کی غلط حرکت پر اس کو معاف کرنا ضروری نہیں ہے، بہرحال ایسی صورت میں بھی اس کا معاف کر دینا مکارمِ اخلاق کا تقاضا ہو گا۔