حدیث نمبر: 5244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ توبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، جبکہ وہ اس بات سے بری ہوئی تو روزِ قیامت ایسے مالک پر حد لگائی جائے گی، الا یہ کہ غلام ایسا ہی نکلا، جیسے اس نے کہا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ غلام اپنے آقا کے اختیار میں ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مالک ہر معاملے میں اس پر اپنی مرضی ٹھونسنا شروع کر دے، غلام اور مالک دونوں کے اپنے اپنے حقوق ہیں، اگر کسی طرف سے کمی بیشی ہوئی تو قیامت کے روز محاسبہ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5244
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6858، ومسلم: 1660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9563»