الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ عِقَابِ مَنْ مَثَلَ بِعَبْدِهِ أَوْ رَمَاءَ بِالزَّنَا وهو برىء باب: جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، یا اس پر زنا کی تہمت لگائی، جبکہ وہ بری ہو، اس کی سزا کا بیان
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مُثِّلَ بِهِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ فَهُوَ حُرٌّ وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ خُصِيَ يُقَالُ لَهُ سَنْدَرٌ فَأَعْتَقَهُ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا ثُمَّ إِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى مِصْرَ فَكَتَبَ لَهُ عُمَرُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ اصْنَعْ بِهِ خَيْرًا أَوْ احْفَظْ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس غلام کا مثلہ کیا گیا یا اس کو آگ کے ساتھ جلایا گیا تو وہ آزاد ہو جا ئے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا غلام بن جائے گا۔ اس کے بعد سندر نامی ایسے غلام کو لایا گیا کہ جس کو خصی کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آزاد ی کا حکم دے دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے بھی اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، پھر وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے فوت ہو جانے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے بھی اس کے ساتھ خیر والا معاملہ کیا، پھر جب اس نے مصر کی طرف چلا جانا چاہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ اس شخص کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، یا یہ لکھا کہ وہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کا پاس و لحاظ رکھے۔