حدیث نمبر: 5241
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا لَطَمَ جَارِيَةً لِآلِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ إِخْوَتِي وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آلِ سوید بن مقرن کی لونڈی کو تھپڑ مار دیا، سیدنا سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تجھے پتہ نہیں ہے کہ چہرہ حرمت والا ہوتا ہے، میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا، یعنی ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی، جب ہم میں سے ایک بھائی نے اس کو تھپڑ مار ا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کر دیں۔

وضاحت:
فوائد: … مالک اور غلام، دو انسان ہیں اور دونوں کے الگ الگ حقوق ہیں، اگر دونوں نے یا کسی ایک نے دوسرے کے حق میں ظلم کیا یا خیانت کی تو قیامت کے روز دوسرے حقوق العباد کی طرف ان کا بھی تصفیہ کرایا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5241
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15794»