حدیث نمبر: 5239
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكَمٍ السَّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ لَهُ قَالَ وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا قَالَ ائْتِنِي بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا أَيْنَ اللَّهُ فَقَالَتْ فِي السَّمَاءِ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ وَقَالَ مَرَّةً هِيَ مُؤْمِنَةٌ فَأَعْتِقْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ اپنی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میری ایک لونڈی تھی، وہ احد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب میں نے اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری لے گیا تھا، میں انسان ہی ہوں اور انسانوں کی طرح غصے ہوتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو زور سے مارا، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مارنے کو میرے حق میں بہت بڑا (جرم) خیال کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔ راوی نے ایک بار یوں روایت بیان کی: یہ مؤمنہ ہے، تو اس کو آزاد کر دے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5239
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24165»