الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ جَوَازِ ضَرْبِ الْمَمْلُوكِ عَلَى قَدْرِ ذَنْبِهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ باب: غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 5238
عَنْ زَاذَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ دَعَا غُلَامًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ فَقَالَ مَا لِي مِنْ أَجْرِهِ مِثْلُ هَذَا لِشَيْءٍ رَفَعَهُ مِنَ الْأَرْضِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَطَمَ غُلَامَهُ فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زاذان کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کو آزاد کیا اور زمین سے ایک چیز اٹھاتے ہوئے اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس عمل میں اس کے بقدر بھی میرے لیے اجر نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَہُ حَدًّا لَمْ یَأْتِہِ أَوْ لَطَمَہُ فَإِنَّ کَفَّارَتَہُ أَنْ یُعْتِقَہُ۔)) … جس نے اپنے غلام کو ایسی حد لگائی، جس کا وہ مستحق نہیںتھا، یا اس کو تھپڑا مارا تو اس کاکفارہ یہ ہو گا کہ وہ اس کو آزاد کر دے۔