الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ جَوَازِ ضَرْبِ الْمَمْلُوكِ عَلَى قَدْرِ ذَنْبِهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ باب: غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 5237
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّهُ كَانَ يَضْرِبُ غُلَامًا لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنِّي أُعْتِقُهُ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک غلام کو مار رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت والا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ا س کو آزاد کرتا ہوں۔