الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ وَالنَّهْي عَنْ ضَرْبِهِمْ باب: غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ وَهَبَ أَحَدَهُمَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ لَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْدِمْنَا قَالَ خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ قَالَ خِرْ لِي قَالَ خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلَامًا وَقَالَ اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ الْغُلَامُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُهُ۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غلام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو مارنا نہیں، کیونکہ مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ عفان راوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی خادم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں جو چاہتے ہو، لے لو۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ میرے لیے پسند کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لے لو، کیونکہ میں نے اس کو خیبر سے واپسی پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے اور مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسر اغلام سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کے حق میں اچھی وصیت قبول کرنا۔ انھوں نے اس کو آزاد کر دیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ غلام کا کیا بنا؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے حق میں نیک وصیت قبول کروں، پس اس وجہ سے میں نے اس کو آزاد کر دیا۔