حدیث نمبر: 5234
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ وَهَبَ أَحَدَهُمَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ لَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْدِمْنَا قَالَ خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ قَالَ خِرْ لِي قَالَ خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلَامًا وَقَالَ اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ الْغُلَامُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غلام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو مارنا نہیں، کیونکہ مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ عفان راوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی خادم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں جو چاہتے ہو، لے لو۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ میرے لیے پسند کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لے لو، کیونکہ میں نے اس کو خیبر سے واپسی پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے اور مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسر اغلام سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کے حق میں اچھی وصیت قبول کرنا۔ انھوں نے اس کو آزاد کر دیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ غلام کا کیا بنا؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے حق میں نیک وصیت قبول کروں، پس اس وجہ سے میں نے اس کو آزاد کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … اسلام نے عدل و انصاف اور اخوت و مساوات پر حد درجہ زور دیا ہے اور احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ خیال رکھا ہے۔ اگر ظاہری حقوق کا اعتبار کریں تو غلام معاشرے کے سب سے کم مرتبے والے لوگ ہیں، لیکن اسلام نے ان کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی وضاحت کر دی کہ یہ سلوک اس طرح کیا جائے کہ مالکان جو خود کھائیں اور پہنیں، وہی اپنے غلاموں کو کھلائیں اور پہنائیں، ان کے معاملے میں عفو و درگذر کے پہلو کو وسیع رکھیں اور ان کی مجبوری و ماتحتی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں، کیونکہ وہ دین اور انسان ہونے کی حیثیت سے اپنے آقاؤں کے بھائی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5234
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل ابي غالب البصري، فقد اختلف فيه، وھو ممن يعتبر به في المتابعات والشواھد، أخرجه الطبراني في الكبير : 8057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22506»