الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ وَالنَّهْي عَنْ ضَرْبِهِمْ باب: غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5232
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي وَلْيَقُلْ سَيِّدِي وَمَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَاتِي وَغُلَامِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی غلام سے اس طرح نہ کہے: تو اپنے رب کو پانی پلا، تو اپنے رب کو کھانا کھلا، تو اپنے رب کو وضو کروا۔ اور کوئی غلام اس طرح نہ کہے: میرا رب، بلکہ وہ یوں کہے: میرا سردار اور میرا مولا، اسی طرح کوئی مالک اس طرح نہ کہے: عَبْدِیْ، اَمَتِیْ، بلکہ وہ کہے: میرا جوان، میرا غلام۔