الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ وَالنَّهْي عَنْ ضَرْبِهِمْ باب: غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5229
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَرِقَّاؤُكُمْ أَرِقَّاؤُكُمْ أَرِقَّاؤُكُمْ أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ فَإِنْ جَاءُوا بِذَنْبٍ لَا تُرِيدُونَ أَنْ تَغْفِرُوهُ فَبِيعُوا عِبَادَ اللَّهِ وَلَا تُعَذِّبُوهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلایا کرو، جو کچھ خود پہنتے ہو، ان کو بھی اسی میں سے پہناؤ، اگر وہ کوئی ایسا گناہ کر گزریں، جو تم نہ بخشنا چاہو، تو اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو بیچ دو اور ان کو عذاب نہ دو۔