الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ وَالنَّهْي عَنْ ضَرْبِهِمْ باب: غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5227
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ إِذَا كَفَاهُ الْمُشَقَّةَ وَالْحَرَّ فَقَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْعُوهُ فَإِنْ كَرِهَ أَحَدُنَا أَنْ يَطْعَمَ مَعَهُ فَلْيُطْعِمْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس خادم کے بارے میں سوال کیا، جو مالک کو محنت اور گرمی سے کفایت کرتا ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بلائیں، اگر وہ اپنے ساتھ کھانا کھلانے کو ناپسند کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک لقمہ دے دے۔