الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ وَالنَّهْي عَنْ ضَرْبِهِمْ باب: غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5224
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيَبْدَأْ بِهِ فَلْيُطْعِمْهُ أَوْ لِيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے اور وہ کھانے لگے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بھی کھلائے یا اس کو اپنے پاس بٹھا دے، کیونکہ اس کی گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔