حدیث نمبر: 5221
عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا قَالَ لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا ، جو کہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لونڈی تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زنا کے بچے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں ہے، مجھے دو جوتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں زنا کا بچہ آزاد کروں۔

وضاحت:
فوائد: … ایسا بچہ شریعت میں قصور وار نہیں ہے اور وہ دنیا و آخرت میں بلند سے بلند مقام حاصل کر سکتا ہے، لیکن عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ گھٹیا مزاج لوگوں کی اولاد اور اس قسم کے بچے معاشرے کے ناکارہ افراد ہی ثابت ہوتے ہیں۔ دیکھیں کہ جب عیسیٰ رضی اللہ عنہ کی معجزاتی طور پر ولادت ہوئی اور لوگوں نے دیکھا کہ مریم رضی اللہ عنہا شادی کے بغیر بچہ جنم دے کر آ گئی ہیں تو انھوں نے کہا: {یٰٓاُخْتَ ھٰرُوْنَ مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا} … اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی (تو یہ کیا کر کے آ گئی ہے)۔ (مریم:۲۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5221
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو يزيد الضبي مجھول، أخرجه ابن ماجه: 2531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28176»