الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ باب: آزاد کرنے اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ أَعْجَمِيَّةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ عِتْقَ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِإِصْبَعِهَا السَّبَّابَةِ فَقَالَ لَهَا مَنْ أَنَا فَأَشَارَتْ بِإِصْبَعِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ أَيْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَعْتِقْهَا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک سیاہ فام عجمی لونڈی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواباً انگشت ِ شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیتے ہوئے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور پھر آسمان کی طرف، دراصل وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔