حدیث نمبر: 5218
عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مِنْهُمْ فَنَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْتِقَ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کرنی تھی، جب یمن سے خولان قبیلہ کے قیدی آئے تو انھوں نے ان میں سے ایک غلام آزاد کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، پھر جب بنو عنبر سے مضر قبیلے کے قیدی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان قیدیوں میں سے کسی کو آزاد کر دیں۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے گردن آزاد کرنی تھی اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے گردن آزاد کرنا افضل عمل ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کی رہنمائی کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العتق / حدیث: 5218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه البزار: 2827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26798»