الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ باب: آزاد کرنے اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5215
عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ خِدْمَتُهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَعْتِقْ سَعْدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مَاهِنٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْكَ الرِّجَالُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي السَّبْيَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتے تھے اور ان کی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند بھی آتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! سعد کو آزاد کر دو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے علاوہ ہمارا کوئی خادم نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سعد کو آزاد کر دو، تمہارے پاس کئی بندے آئیں گے۔ امام ابو داودد طیالسی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قیدی تھے۔