الفتح الربانی
كتاب العتق— (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل
بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ باب: آزاد کرنے اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَبِالْفَرْجِ الْفَرْجَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَعِيدٌ نَعَمْ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ لِغُلَامٍ لَهُ أَفْرَهَ غِلْمَانَهُ ادْعُ لِي مُطَرِّفًا قَالَ فَلَمَّا قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن گردن کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو آگ سے آزاد کر دے گا، یعنی وہ اس کے ہاتھ کے بدلے ہاتھ کو، ٹانگ کے ٹانگ کو اور شرم گاہ کے بدلے شرم گاہ کو آزاد کرے گا۔ علی بن حسین نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ سعید نے کہا: جی ہاں، پس علی بن حسین نے اپنے سب سے زیادہ چست غلام سے کہا: مطرف کو بلاؤ، جب وہ ان کے سامنے کھڑا ہوا تو انھوں نے کہا: تو چلا جا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔