الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بابُ قَوْلِهِ ﷺ: الْخَيْلُ ثَلاثَةٌ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں کا بیان
عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَرَسٌ يَرْبِطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَثَمَنُهُ أَجْرٌ وَرُكُوبُهُ أَجْرٌ وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ وَعَلَفُهُ أَجْرٌ وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ فَثَمَنُهُ وِزْرٌ وَعَلَفُهُ وِزْرٌ وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَةِ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ سَدَادًا مِنَ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ گھوڑا ہے کہ جس کو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے باندھ کر رکھتا ہے، اس کی قیمت بھی اجر ہے ، اس کی سواری بھی اجر ہے، اس کا عاریۃً دینا بھی اجر ہے اور اس کا چارہ بھی اجر ہے ، دوسرا وہ گھوڑا ہے، جس پر جوا اور (جاہلیت کی) بازیاں لگائی جاتی ہیں، ایسے گھوڑے کی قیمت بھی گناہ ہے اور اس کا چارہ بھی مالک کے لیے بوجھ ہے، تیسرا وہ گھوڑا ہے، جس کو اس لیے پالا جاتا ہے کہ وہ بچے جنم دے گا، ممکن ہے کہ اس قسم کی وجہ سے مالک کی فقیری دور ہو جائے۔