الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بابُ فِيمَا جَاءَ فِي إِكْرَامِهَا وَعَلَفِهَا وَتَضْمِيرِهَا وَكَرَاهَةِ جَزْ مَا طَالَ مِنْ شَعْرِهَا باب: گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 5200
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَزِّ أَعْرَافِ الْخَيْلِ وَنَتْفِ أَذْنَابِهَا وَجَزِّ نَوَاصِيهَا وَقَالَ أَمَّا أَذْنَابُهَا فَإِنَّهَا مَذَابُّهَا وَأَمَّا أَعْرَافُهَا فَإِنَّهَا إِدْفَاؤُهَا وَأَمَّا نَوَاصِيهَا فَإِنَّ الْخَيْرَ مَعْقُودٌ فِيهَا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَنَوَاصِيهَا مَعْقُودٌ بِهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے کی گردن کے بال، دم کے بال اور پیشانی کے بال کاٹنے سے منع کیا اور فرمایا: گھوڑوں کی دُمیں (مکھیوں وغیرہ کو) ہٹاتی ہیں، گردن کے بال ان کو سردی سے بچاتے ہیں اور پیشانیاں، کیا بات ہے ان کی کہ اللہ تعالیٰ نے روزِ قیامت تک خیر کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔