الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بابُ فِيمَا جَاءَ فِي إِكْرَامِهَا وَعَلَفِهَا وَتَضْمِيرِهَا وَكَرَاهَةِ جَزْ مَا طَالَ مِنْ شَعْرِهَا باب: گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ زَارَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَجَدَهُ يُنَقِّي شَعِيرًا لِفَرَسِهِ قَالَ وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ فَقَالَ لَهُ رَوْحٌ أَمَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَكْفِيكَ قَالَ تَمِيمٌ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ثُمَّ يَعْلِفُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ۔ شرحبیل بن مسلم خولانی کہتے ہیں: روح بن زنباع، سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو ملنے کے لیے آئے اور ان کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے گھوڑے کے لیے جَو صاف کر رہے تھے اور ان کے بیوی بچے ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے، روح نے کہا: کیا ان افراد میں کوئی ایسا بندہ نہیں ہے، جو تمہیں اس کام سے کفایت کرے، سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان آدمی نے اپنے گھوڑے کے لیے جو صاف کر کے اس کو کھلاتا ہے تو اس کے لیے ہر ہر دانے کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔