الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بابُ فِي اسْتِحْبَابِ تَكْثِيرِ نَسْلِهَا وَفَضْلٍ ذلِكَ وَالنَّهْي عَنْ اخْتِصَائِهَا وَكَرَاهَةِ انْزَاءِ الْحُمُرِ عَلَيْها باب: گھوڑوں کی نسل کو زیادہ کرنے اور اس کی فضیلت کا اورگھوڑوں کو خصی کرنے کی¤ممانعت اور گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کروانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5195
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم گھوڑی کی جفتی گدھے سے کروائیں۔
وضاحت:
فوائد: … گھوڑی اور گدھے کے ملاپ سے خچر پیدا ہوتا ہے، ان احادیث میں اس ملاپ کو ناپسند کیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں گھوڑے اور گدھے کے ساتھ خچر کا ذکر بھی بطورِ احسان کیا گیا ہے، جس سے خچر کے وجود اور اس کے بطور نسل باقی رہنے کا جواز معلوم ہوتا ہے، اس لیے علماء نے ان احادیث میں ممانعت یا ناپسندیدگی کے حکم کو تنزیہی قرار دیا ہے، یا اسے اس صورت پر محمول قرار دیاجائے گا، جب اس کی وجہ سے گھوڑوں کی نسل اور اس کی افزائش متأثر ہو، کیونکہ گھوڑا خچر سے زیادہ مفید اور ضروری ہے، اس کی نسل میں کمی نہیں آنی چاہیے۔