حدیث نمبر: 5193
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ قُلْتُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ قَالَ يُحْمَلُ الْحِمَارُ عَلَى الْفَرَسِ فَيَخْرُجُ بَيْنَهُمَا هَذَا قُلْتُ أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلَى فُلَانَةَ قَالَ لَا إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خچر کا نر یا مادہ بطور تحفہ دیا گیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خچر نسل کا نر یا مادہ ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب گدھے سے گھوڑی کی جفتی کرائی جاتی ہے تو ان سے یہ پیدا ہوتا ہے، میں نے کہا: تو پھر کیا ہم فلاں گدھے سے فلاں گھوڑی کی جفتی نہ کروائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہ لوگ ایسا کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی جن کو یہ علم نہیں ہوتا ہے کہ حکمت و دانائی کے مطابق زیادہ بہتر اور زیادہ مناسب چیز کون سی ہے، گھوڑا بہرحال خچر سے اعلی جانور ہے، اس کے ذریعے جہاد کیا جاتا ہے، غنیمتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ حلال جانور ہے، جب ان میں سے کوئی صفت بھی خچر میں نہیں پائی جاتی، نیز اگر خچر پیدا کرنے کی عام اجازت دے دی جائے تو گھوڑوں کی قلت ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5193
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2565، والنسائي: 6/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 766»