الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بابُ فِي اسْتِحْبَابِ تَكْثِيرِ نَسْلِهَا وَفَضْلٍ ذلِكَ وَالنَّهْي عَنْ اخْتِصَائِهَا وَكَرَاهَةِ انْزَاءِ الْحُمُرِ عَلَيْها باب: گھوڑوں کی نسل کو زیادہ کرنے اور اس کی فضیلت کا اورگھوڑوں کو خصی کرنے کی¤ممانعت اور گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کروانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5192
عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ أَتَاهُ فَقَالَ أَطْرِقْنِي مِنْ فَرَسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَطْرَقَ فَعَقَّتْ لَهُ الْفَرَسُ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَبْعِينَ فَرَسًا حُمِلَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عامر ہوزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: مجھے جفتی کے لیے اپنا گھوڑا دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے جفتی کے لیے کسی کو گھوڑا دیا اور اس کے نتیجے میں گھوڑا پیدا ہوا تو اس کے لیے ایسے ستر گھوڑوں کا ثواب ہو گا، جو اللہ کے راستے میں سواری کے لیے دیئے جائیں۔