الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بَابُ فِي الصَّفَاتِ الْمَمْدُوحَةِ وَالْمَدْمُوْمَةِ مِنْهَا باب: گھوڑوں کی قابل تعریف اور قابل مذمت صفات کا بیان
حدیث نمبر: 5189
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَلَا أَدْرِي بِالْكُمَيْتِ بَدَأَ أَوْ بِالْأَدْهَمِ قَالَ وَسَأَلُوهُ لِمَ فَضَّلَ الْأَشْقَرَ قَالَ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ الْأَشْقَرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، محمد راوی کہتے ہیں: مجھے اس چیز کا علم نہ ہو سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے سیاہی سرخی مائل گھوڑے کا ذکر کیا یا سیاہ گھوڑے کا۔ جب لوگوں نے اس سے سوال کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفید و سرخ گھوڑے کو کیوں فضیلت دی تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تھا، جو آدمی سب سے پہلے فتح کی خوشخبری لایا تھا، وہ اس قسم کے گھوڑے پر سوار تھا۔