حدیث نمبر: 5188
عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا أَوْ قَالَ وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں، سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور قبیح نام حرب اور مرہ ہیں، گھوڑوں کو سرحدی حفاظت کے لیے تیار رکھو، ان کی پیشانی اور سرین کو چھوا کرو اور ان کو قلادے ڈالا کرو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں، گھوڑوں کی ان قسموں کا اہتمام کرو: سیاہی سرخی مائل یعنی قرمزی رنگ کے گھوڑے جن کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، سفید و سرخ گھوڑا جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو اور وہ سخت سیاہ گھوڑا جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو۔

وضاحت:
فوائد: … اس قسم کے گھوڑوں کا بہتر ہونا تجربے کی بنیاد پر تھا نہ کہ وحی سے، کسی اور علاقے اور زمانے میں اس کے خلاف بھی ممکن ہے، ویسے ان رنگوں کے گھوڑے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں، ماتھے پر پھول کی طرح کی سفیدی اور چاروں پاؤں گھٹنوں سے نیچے سفید، کیا ہی بھلے لگتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5188
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عقيل بن شبيب، أخرجه ابوداود: 2543، 2553، 4950، والنسائي: 6/ 218 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19241»