الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
أَبْوَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَاتِ الْخَيْلِ وَفَضْلٍ اقْتِنَائِهَا لِلْجِهَادِ وَمَا يَسْتَحِبُّ وَيَكْرَهُ مِنْهَا وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5186
عَنْ مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَيْلِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ غَفْرًا لَا بَلِ النِّسَاءُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی چیز نہیں ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہے، گھوڑوں کی بہ نسبت، پھر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! بخش دے، نہیں، بلکہ آپ کو عورتیں سب سے زیادہ پسند تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … اے اللہ! بخش دے سے سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ گھوڑ ے نہیں، بلکہ بیویاں پسند تھیں۔ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں سے محبت تھی۔