حدیث نمبر: 5183
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالنَّيْلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا فَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَادْعُوا لَهَا بِالْبَرَكَةِ وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا بِالْأَوْتَارِ وَقَالَ عَلِيٌّ وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر اور مقصود و مطلوب وابستہ کر دیا گیا ہے اور ان کے مالکان ان پر سوار ہو کر سختیاں جھیلتے ہیں، پس تم لوگ گھوڑوں کی پیشانیوں کو چھوا کرو اور ان کے لیے برکت کی دعا کیا کرو اور ان کو قلادے ڈالو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … تانت کے قلادے سے منع کرنے کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱) دوڑتے وقت یا چرتے وقت گلے گھونٹنے کی وجہ سے دم نکل سکتا ہے، (۲) گھوڑوں کو نظر بد اور مختلف تکلیفوں سے بچانے کے لیے اس قسم کی تانت ان کی گردنوں میں لٹکائی جاتی تھی اور (۳) یہ تانت سخت اور تیز ہوتی ہے، اس سے گلا کٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5183
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط : 8977 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14791 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14851»