الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
أَبْوَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَاتِ الْخَيْلِ وَفَضْلٍ اقْتِنَائِهَا لِلْجِهَادِ وَمَا يَسْتَحِبُّ وَيَكْرَهُ مِنْهَا وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5179
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِمَوْعُودِهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی راہ میں ایک گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، سیراب ہونا، پیشاب اور لید، یہ سب چیزیں روزِ قیامت اس کے ترازو میں نیکیاں ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … وعدے کی تصدیق سے مراد یہ ہے کہ بندہ تسلیم کرے کہ اس عمل کا پورا پورا اجر دیا جائے گا اور کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔