الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بَابُ الرَّمْي بِالسَّهَامِ وَفَضْلِهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَاللَّعْبِ بِالْحِرَابِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 5177
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ يَا عُمَرُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حبشی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں (مسجد نبوی میں) لڑائی کے آلات کے ساتھ کھیل رہے تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ ان کو مارنے کے لیے کنکریاں اٹھانے کے جھکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! ان کو کھیلنے دو۔