الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بَابُ الرَّمْي بِالسَّهَامِ وَفَضْلِهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَاللَّعْبِ بِالْحِرَابِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَانَ عُقْبَةُ يَأْتِينِي فَيَقُولُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ تَثَاقَلْتُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِي آخِرِهِ وَمَنْ عَلَّمَهُ اللَّهُ الرَّمْيَ فَتَرَكَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَنِعْمَةٌ كَفَّرَهَا۔ سیدنا خالد بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے اور کہتے: باہر آؤ، تیر اندازی کریں، ایک دن میں نے باہر آنے میں تاخیر کی یا سستی کا مظاہرہ کیا، تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا، پھر انھوں نے سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس کے آخری الفاظ اس طرح ہیں: اور اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو تیراندازی کی تعلیم دی، لیکن اس نے بے رغبتی کی وجہ سے اس کو ترک کر دیاتو دراصل اس نے ایک نعمت کا کفر کیا۔