حدیث نمبر: 5176
عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَانَ عُقْبَةُ يَأْتِينِي فَيَقُولُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ تَثَاقَلْتُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِي آخِرِهِ وَمَنْ عَلَّمَهُ اللَّهُ الرَّمْيَ فَتَرَكَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَنِعْمَةٌ كَفَّرَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا خالد بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے اور کہتے: باہر آؤ، تیر اندازی کریں، ایک دن میں نے باہر آنے میں تاخیر کی یا سستی کا مظاہرہ کیا، تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا، پھر انھوں نے سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس کے آخری الفاظ اس طرح ہیں: اور اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو تیراندازی کی تعلیم دی، لیکن اس نے بے رغبتی کی وجہ سے اس کو ترک کر دیاتو دراصل اس نے ایک نعمت کا کفر کیا۔

وضاحت:
فوائد: … حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے، دراصل یہ محض کوئی کھیل نہیں تھا، بلکہ اس میں دین کی منفعت مضمر تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس حکمت کا علم نہ ہو سکا، اس لیے انھوں نے اُن کو منع کرنا چاہا، لیکن جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرما دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5176
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17454»