الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بَابُ الرَّمْي بِالسَّهَامِ وَفَضْلِهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَاللَّعْبِ بِالْحِرَابِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ ارْمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو اسلم کے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بازار میں تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا، کرو تیر اندازی اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فریق کا نام لیا تو وہ رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: پھینکو تیر (کیوں رک گئے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے پھینکیں، جبکہ آپ تو بنو فلاں کے ساتھ ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کرو تیز اندازی، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔