حدیث نمبر: 5171
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ ارْمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو اسلم کے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بازار میں تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا، کرو تیر اندازی اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فریق کا نام لیا تو وہ رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: پھینکو تیر (کیوں رک گئے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے پھینکیں، جبکہ آپ تو بنو فلاں کے ساتھ ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کرو تیز اندازی، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام مراد ہیں، ان کی اولاد عرب تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5171
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2899، 3507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16643»