الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي جَوَازِ ذَلِكَ فِي الْبُنْيَانِ باب: عمارتوں میں اس چیز کے جواز کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ قَالَ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِفَرْجِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِخَلَاءِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ فَعَلُوهَا؟ اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ))عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اتنے عرصے سے اپنی شرمگاہ کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ نہیں کیا، لیکن عراک بن مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ لوگ قبلہ رخ ہونے کو ناپسند کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لیٹرین کو قبلہ رخ کر کے بنا دیا جائے۔“ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا لوگ ایسے ہی سمجھنے لگ گئے ہیں؟ تو پھر میری سیٹ کو قبلہ رخ کر دو۔“