الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُسَابَقَةِ عَلَى الْأَقْدَامِ باب: آدمی کی دوڑ کے مقابلے کا بیان
حدیث نمبر: 5169
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ فَلَبِثْنَا حَتَّى إِذَا رَهِقَنِي اللَّحْمُ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي فَقَالَ هَذِهِ بِتِلْكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، سو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل گئی، پھر ہم ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جب مجھ پر گوشت آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھ سے مقابلہ کیا اور اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے سبقت لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جیت اُس سابق مقابلے کا بدلہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ورزش نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے زوجۂ محترمہ کے ساتھ حسن معاشرت کا ایک انداز ہے، اس سے بیوی کے دل میں خاوند کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ خوش بھی ہو جاتی ہے۔