الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُسَابَقَةِ عَلَى الْأَقْدَامِ باب: آدمی کی دوڑ کے مقابلے کا بیان
حدیث نمبر: 5168
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَكَثِيرًا مِنْ بَنِي الْعَبَّاسِ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْزَمُهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ، سیدنا عبیداللہ اور بنو عباس کے کئی بچوں کو ایک لائن میں کھڑا کرتے اور پھر ان سے فرماتے: جو میری طرف سب سے پہلے پہنچے گا، اس کو اتنا اتنا انعام ملے گا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دوڑتے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر اور سینۂ مبارک پر چڑھ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور ان کو گلے لگا لیتے۔