الفتح الربانی
أبواب الأمان والصلح والمهادنة— امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب
بَابُ أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْكُفَّارِ وَقَوْلِهِ عَزَّوَجَلَّ: «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ إِلَى قَوْلِهِ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدِ وَهُمْ صَاغِرُونَ» باب: کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 5156
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک علاقے میں دو قبلے صحیح نہیں ہیں اور مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک خطۂ زمین میں برابر کی سطح پر دو یا زائد ادیان کا نفاذ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ کافروں کے اندر سکونت اختیار نہ کرے، وگرنہ وہ اپنی ذلت کا سبب بنے گا۔