الفتح الربانی
أبواب الأمان والصلح والمهادنة— امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب
بَابُ فِيمَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ مَعَ الكُفَّارِ وَمُدَّةِ الْمُهَادَنَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 5152
عَنْ بَجَالَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ لَمْ يَدْرِ عُمَرُ أَنْ يَأْخُذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بجالہ تمیمی سے مروی ہے، و ہ کہتے ہیں:سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مجوسیوں سے جزیہ لینے کے بارے میں علم نہیں تھا، یہاں تک کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ شہادت دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ باب میں مذکورہ آیت میں صرف اہل کتاب کا ذکر ہے، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ا س آیت کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے مجوسی سے جزیہ نہ لیا، حتی کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف نے یہ شہادت دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔