الفتح الربانی
أبواب الأمان والصلح والمهادنة— امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب
بَابُ فِيمَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ مَعَ الكُفَّارِ وَمُدَّةِ الْمُهَادَنَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَادَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثٍ مَنْ أَتَاهُمْ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَرُدُّوهُ وَمَنْ أَتَى إِلَيْنَا مِنْهُمْ رَدُّوهُ إِلَيْهِمْ وَعَلَى أَنْ يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَأَصْحَابُهُ فَيَدْخُلُونَ مَكَّةَ مُعْتَمِرِينَ فَلَا يُقِيمُونَ إِلَّا ثَلَاثًا وَلَا يُدْخِلُونَ إِلَّا جَلَبَ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهِ۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ والے دن مشرکوں سے تین امور پر معاہدہ کیا: (۱) نبی کریم کے پاس سے جو آدمی مشرکوں کے پاس آ جائے گا، وہ اس کو ہر گز نہیں لوٹائیں گے، لیکن مشرکوں میں سے جو آدمی اہل مدینہ کے پاس آئے گا، وہ اس کو لوٹا دیں گے، (۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے اور مکہ میں صرف تین دن تک قیام کریں گے، اور (۳) وہ صرف اس طرح داخل ہوں گے کہ تلوار اور قوس وغیرہ تھیلوں میں ہوں گے۔