الفتح الربانی
أبواب الأمان والصلح والمهادنة— امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب
بَابُ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَعَدْمِ الْغُدْرِ بِمَنْ عِنْدَهُ امان باب: معاہدہ پورا کرنے اور امان والے آدمی سے دھوکہ نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5142
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے اورذمی کو اس کے عہد میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ذمی اس شخص کو کہتے ہیں جس سے معاہدہ کر کے اس کے جان و مال، عزت و آبرو اور مذہب کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو۔