الفتح الربانی
أبواب الأمان والصلح والمهادنة— امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب
تحْرِيمُ الدَّمِ بالامان وصحتُهُ مِنَ الْوَاحِدِ ذَكَرًا كَانَ أَمْ أُنْثَى باب: امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا،¤خواہ وہ مرد ہو یا عورت
حدیث نمبر: 5134
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَجَارَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا وَعَلَى الْجَيْشِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لَا نُجِيرُهُ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ نُجِيرُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَحَدُهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے کسی شخص کو پناہ دے دی، اس لشکر کے امیر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم اس کو پناہ نہیں دیں گے، لیکن سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس کو پناہ دیں گے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کوئی ایک مسلمان تمام مسلمانوں پر پناہ دے سکتا ہے۔