الفتح الربانی
أبواب الأمان والصلح والمهادنة— امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب
تحْرِيمُ الدَّمِ بالامان وصحتُهُ مِنَ الْوَاحِدِ ذَكَرًا كَانَ أَمْ أُنْثَى باب: امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا،¤خواہ وہ مرد ہو یا عورت
حدیث نمبر: 5133
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ أَنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمْسَ وَسَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيَّ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا یزید بن عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو زہیر بن اُقیش کی طرف یہ پیغام لکھا تھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ با امن رہو گے۔
وضاحت:
فوائد: … اَلصَّفِیِّ (منتخب و چیدہ حصہ): مالِ غنیمت کا وہ حصہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبل از تقسیم اپنے لیے مقرر کر لیتے تھے، پچھلے ابواب میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔