الفتح الربانی
أبواب الأمان والصلح والمهادنة— امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب
تحْرِيمُ الدَّمِ بالامان وصحتُهُ مِنَ الْوَاحِدِ ذَكَرًا كَانَ أَمْ أُنْثَى باب: امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا،¤خواہ وہ مرد ہو یا عورت
حدیث نمبر: 5130
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا، وہ امن والا ہو گا اور جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو گا، اسے بھی امان حاصل ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو عطا کیا گیا شرف تھا۔