الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِيمَا يَقُولُ الْمُتَخَلِّي عِنْدَ دُخُولِهِ وَخُرُوجِهِ باب: قضائے حاجت کرنے والے کا داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت دعا پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 505
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ: ((غُفْرَانَكَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو کہتے: «غُفْرَانَكَ» … ”(اے اللہ!) میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔“
وضاحت:
فوائد: … بیت الخلاء میں داخل ہونے والا صرف بسم اللہ بھی پڑھ سکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے ثابت ہوتا ہے۔ سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سِتْرُ مَا بَیْنَ اَعْیُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِیْ آدَمَ اِذَا دَخَلَ اَحَدُھُمُ الْخَلَائَ اَنْ یَّقُوْلَ بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … جنوں کی آنکھوں اور بنو آدم کی شرم گاہوں کے مابین یہ پردہ ہے کہ جب کوئی آدمی بیت الخلاء میں داخل ہو تو وہ بسم اللہ پڑھے۔ (ترمذی: ۵۵۱، ابن ماجہ: ۳۰۱) ابن ماجہ کی وہ حدیث ضعیف ہے، جس میں بیت الخلاء سے خارج ہوتے وقت یہ دعا بتلائی گئی ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّیْ الْاَذٰی وَعَافَانِیْ۔ (اس حدیث کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے، اس کو ضعیف قرار دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ (دیکھیں انجاز الحاجۃ: ۳۰۱)