الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
فَصْلٌ فِي كَرَاهَةِ رَدِّ السَّلَامِ أَوِ الِاشْتِغَالِ بِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى حَالَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ باب: قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف¤رہنے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 500
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ، يَعْنِي أَنَّهُ تَيَمَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر چکے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک اس کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوار پر ہاتھ مار کر تیمم کر لیا۔ (پھر سلام کا جواب دیا)
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں مذکورہ اور اس موضوع کی دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی قضائے حاجت کر رہا ہو تو اس وقت اس کو سلام نہیں کہنا چاہیے، وگرنہ وہ جواب کا مستحق نہیں ہو گا، پچھلے باب کے آخر میں اس کی دلیل گزر چکی ہے، وضو کے بغیر سلام کا جواب دینا اور ذکر کرنا بالاتفاق جائز ہے، البتہ استحباب اور افضلیت اس میں ہے کہ ذکر ِ الہی کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے۔