الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
حدیث نمبر: 50
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ عَمِلْتَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطَايَا وَلَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَكَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً)) زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقُرَابُ الْأَرْضِ مِلْءُ الْأَرْضِ.ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو زمین کے بھراؤ کے برابر گناہ کرے، لیکن میرے ساتھ شرک نہ کرے تو میں تجھے زمین کے بھرنے کے برابر ہی بخشش عطا کر دوں گا۔“ ایک روایت میں ہے: «قُرَابُ الْأَرْضِ» سے مراد زمین کا بھراؤ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہم پہلے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ یہ احادیث توحید کی فضیلت اور شرک کی مذمت پر دلالت کرتی ہیں،لیکن اِن کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہم اِن خوشکن فرمودات کو سامنے رکھ کر اعمالِ صالحہ سے باز رہنے اور اعمالِ سیئہ کا ارتکاب کرنے کی روش اختیار کر لیں، ذرا درج ذیل امور پر غور کریں: ٭ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن ارشادات کی روشنی میں اعمال صالحہ کی مشکل روٹین کو متأثر نہ ہونے دیا۔
٭ ان احادیث ِ مبارکہ کے اولین سامعین صحابۂ کرام تھے، لیکن اِن کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑھا۔
٭ اگر عہد ِ نبوی میں صحابہ کے نفوس قدسیہ سے ایسے جرائم سرزد ہوئے، جن کی بنا پر حدود لگائی جاتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر وہ حدود نافذ کر دیں۔
٭ بے شمار نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی مؤحدین کو موت کے وقت، قبر میں، حشر میں اور جہنم کی صورت میں سزا دی جائے گی، لیکن بالآخر وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔
٭ کئی آیات اور احادیث میں نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کو شرط قرار دیا گیا ہے۔
٭ احادیث نمبر (۳۱،۴۵) کے مطابق یہ احادیث ان لوگوں سے مخفی رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے، جن میں ان خوشخبریوں کی وجہ سے اعمال صالحہ کا رجحان کم پڑ سکتا ہے۔
پس خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ برحق ہیں، ان میں توحید اور توحید کے کلمات کی بنا پر جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے، وہ بھی برحق ہے اور یہ کلمات ادا کر کے اہل ایمان کو یہ حسن ظن قائم کر لینا چاہیے کہ وہ ان شاء اللہ ان کے مصداق بنیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کا رجحان کم نہیں پڑنا چاہیے۔
٭ ان احادیث ِ مبارکہ کے اولین سامعین صحابۂ کرام تھے، لیکن اِن کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑھا۔
٭ اگر عہد ِ نبوی میں صحابہ کے نفوس قدسیہ سے ایسے جرائم سرزد ہوئے، جن کی بنا پر حدود لگائی جاتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر وہ حدود نافذ کر دیں۔
٭ بے شمار نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی مؤحدین کو موت کے وقت، قبر میں، حشر میں اور جہنم کی صورت میں سزا دی جائے گی، لیکن بالآخر وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔
٭ کئی آیات اور احادیث میں نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کو شرط قرار دیا گیا ہے۔
٭ احادیث نمبر (۳۱،۴۵) کے مطابق یہ احادیث ان لوگوں سے مخفی رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے، جن میں ان خوشخبریوں کی وجہ سے اعمال صالحہ کا رجحان کم پڑ سکتا ہے۔
پس خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ برحق ہیں، ان میں توحید اور توحید کے کلمات کی بنا پر جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے، وہ بھی برحق ہے اور یہ کلمات ادا کر کے اہل ایمان کو یہ حسن ظن قائم کر لینا چاہیے کہ وہ ان شاء اللہ ان کے مصداق بنیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کا رجحان کم نہیں پڑنا چاہیے۔